نیکسٹ ٹائم سینڈروم

زمانہء طالب علمی یعنی کالج دور کی بات ہے کہ ہمارے من میں کالج کا میگزین پبلش کرنے کا سودا سما گیا، کالج انتظامیہ سے بات کی، چونکہ کالج کی تاریخ میں اسے سے پہلے کبھی ایسی کوئی حرکت نہ ہوئی تھی لہٰذا انتظامیہ نے جھجھکتے جھجھکتے مشروط اجازت دے دی۔ شرط نہایت آسان تھی،... Continue Reading →

Advertisements

کامیاب نمائش جاری ہے

غالباً 1996 کے موسمِ گرما کا ذکر ہے اور ہم ابھی علمِ دنیا کے ہی طالب ہوا کرتے تھے، کہ انہی دنوں ہدایتکار سید نور کی سپر ہٹ فلم 'گھونگھٹ' ریلیز ہوئی۔ لاہور چئیرنگ کراس پر واقع الفلاح سینما میں یہ فلم بہت رش لے رہی تھی اور سینما انتظامیہ کو اضافی شوز چلانے پڑ... Continue Reading →

عکسِ آرزو

ہاں یہ مل گئی ۔۔ یہ لو۔ امی نے مجھے فیملی البم سے ایک بلیک اینڈ وہائٹ تصویر نکال کر پکڑاتے ہوئے کہا، جسکی میں کئی دنوں سے فرمائش کر رہا تھا۔ میں نے ذرا غور سے دیکھا تو ایک دبلی پتلی سی، مغربی نقوش کی حامل، شلوار قمیص میں ملبوس ایک نفیس سی خاتون... Continue Reading →

کوتاہی

بوڑھے کو اپنے وجود کا احساس ہوا اور آنکھ کی درز نیم وا کر کے دیکھی تو سامنے دیوار پر لگی سکرین پر سال 2046 اور مارچ کے مہینے کی کوئی تاریخ نظر آئی جو اسے سمجھ نہ آ سکی۔ سمجھ آتی بھی کیسے؟ مشینوں میں جکڑے اور نالیوں میں پروئے اس ستر سالہ بوڑھے... Continue Reading →

موہے پیا ملن کی آس

  شاید کہانی کوئی بھی نئی نہیں ہوتی، شاید ہر کہانی کسی نہ کسی طور کسی نہ کسی فرد کے ساتھ کسی نہ کسی زمانے میں پیش آ چکی ہوتی ہے۔ جزئیات، کردار اور اندازِ بیاں ہوتے ہیں جو ایک کہانی کو دوسری سے منفرد  یا ممتاز کرتے ہیں۔ زیرِ بیاں کہانی بھی کچھ ایسی... Continue Reading →

نمبر پلیٹ

گاڑی کی ٹمٹماتی ڈیجیٹل گھڑی کے نمبروں پر نظر پڑی تو دیر ہونے کا احساس ہوا، لاشعوری طور پر گاڑی کے ایکسیلریٹر پر پاؤں کا دباؤ بڑھ گیا۔ رفتار ذرا سی بڑھ گئی، چند لمحات ہی گزرے تھے کہ گاڑی کے پیچھے نیلی اور سرخ بتیاں گھومنے کا احساس ہوا۔ شمالی امریکہ کی سرد رات... Continue Reading →

دوسری منزل

والد صاحب کا معاملہ میرے ساتھ شروع سے ذرا سخت ہی رہا۔ ایسا نہیں کہ مجھے کوئی گلہ ہے بلکہ میں تو شکرگزار ہوں کہ کیرئیر کے جس مقام پر آج ہوں اس میں انکی بروقت اور مناسب سختی کا بڑا دخل رہا ورنہ الحمدللہ ایسا تخلیقی ذہن پایا تھا کہ بامشقت والی سزا تو... Continue Reading →

دوسرا بازو

جوان !! اٹینشن !! – کیپٹن فلپ کی پاٹ دار آواز بحری جہاز کے عرشے پر گونجی۔ یہ آواز جوانوں کو متوجہ کرنے کیلئے تھی اور یہ سفر ایمبیسڈر کمپنی سلطنتِ برطانیہ کے اس بحری جہاز کا تھا جو کلکتہ سے چٹاگانگ کے لئے روانہ ہوا تھا۔ ساٹھ سپاہئیوں اور نچلے درجے کے نان کمیشنڈ... Continue Reading →

نصیب کی بارشیں

وہ دہم جماعت کے سیکشن ڈی کے سب سے آخری ڈیسک کے آخری کونے میں بیٹھا کرتا، اب سے نہیں بلکہ پچھلی تمام جماعتوں میں بھی  اسکی وہ جگہ برقرار رہی، کبھی کسی نے قبضہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ رنگ گہرا سانولا، دیہاتی نقوش، ناٹا قد، ہمیشہ اجڑے بال اور کپڑے کبھی استری شدہ... Continue Reading →

Powered by WordPress.com.

Up ↑