سخی بادشاہ

بات فالج کے دوسرے حملے سے شروع ہوئی، ابو پر فالج کا پہلا حملہ سترہ سال قبل ہوا تھا جسکو انہوں نے خدا کے فضل کے بعد اپنی مضبوط قوتِ ارادی، مناسب علاج اور اہلِ خانہ کی نگہداشت سے یوں شکست دی کہ ایک ہاتھ میں معمولی سے کمزوری باقی رہ گئی تھی۔ لیکن یہ دوسرے حملے نےابو کی صحت پر شدید اثرات مرتب کئیے۔ ابو کی دیکھ بھال کیلئیے ہم دونوں بھائی موجود تھے فیصل آباد کے ایک اچھے ہسپتال کے پرائیویٹ روم میں ہم دونوں بھائی اور ڈرائیور ایک لمحہ بھر کیلئیے بھی ابو کو تنہا نہیں چھوڑتے تھے، ابو کی نہ صرف یاد داشت متاثر ہوئی تھی بلکہ چہرے کے ایک حصے کے اعصاب بھی متاثر ہوئے۔ پہلے تو پہچانتے بھی نہیں تھے لیکن پھر کٓرم ہونا شروع ہوا کہ پانچویں دن نہ صرف پہنچاننے لگ گئے بلکہ ہلکی پھلکی بات بھی کر لیتے۔ مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئے پوچھا کب آئے؟ عرض کیا کہ بیماری کا جیسے ہی پتہ چلا پہلی دستیاب فلائٹ پکڑ کر حاضر ہو گیا ہوں۔

دونوں بیٹوں کو ایک ساتھ دیکھ کر شاید وہ ایک نئی توانائی کا احساس تھا جس نے ابو کے اندر طاقت بھر دی۔ ڈاکٹرز بھی پراگریس سے بہت خوش تھے۔ ہفتے بھر کے بعد ڈاکٹرز نے ابو کے ٹیسٹس لئیے، کچھ جسمانی مشقیں کروائیں اور اپنا اطمینان کرنے کے بعد ہمیں گھر جانے کی اجازت دے دی۔ گھر آ کر بھی ابو کی مکمل نگہداشت ہم دونوں بھائیوں نے اپنے ذمہ لے رکھی تھی، بر وقت ادویات دینے سے اور حوائجِ ضروریہ سے لے کر روزانہ غسل تک، کپڑے تبدیل کرنے سے لیکر اپنے ہاتھوں سے جوتے پہنانے تک، دونوں بازوؤں کو دونوں بھائی اپنے کندھوں پر سہارا دے کر بوڑھے باپ کو کھڑا کر لیتے اور یوں ایک ایک قدم اٹھاتے ابو کو بستر سے گاڑی تک بھی لے آتے اور یوں آب و ہوا کی تبدیلی کیلئیے ادھر ادھر کا چکر بھی لگا لیتے۔ بفضلہہ یہ تمام امور ہم خود انجام دیتے اور کوشش ہوتی کہ گھر کے کسی دوسرے فرد کو بالکل دخل نہ دینا پڑے۔ رات کا انتظام بھی ہم نے یوں کر رکھا تھا کہ باریاں لگا رکھی تھیں کہ ایک بھائی رات کا ایک پہر جاگے گا اور دوسرا بھائی رات کا دوسرا پہر، لیکن در حقیقت ہوتا یہ کہ ہم دونوں ہی رات بھر جاگتے رہتے، الحمدللہ ہم دونوں بھائیوں میں خوب دوستی ہے سو رات بھر باتیں کرتے رہتے، غالباً لاشعوری طور پر ہم دونوں ہی اس اندیشے کا شکار تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں سو جاؤں اور ابو کو کسی چیز کی ضرورت پڑے اور ہم پہنچ نہ پائیں۔ سو ہم نہ صرف دن بھر جاگتے بلکہ رات بھی یونہی جاگتے گزر جاتی۔ اس مسلسل بے آرامی نے ہمارے اعصاب پر بھی برا اثر ڈالا، طبیعت میں چڑچڑا پن، بے پناہ تھکن اور خالی الذہنی کے آثار۔۔لیکن اپنے فرض سے غفلت برتنے کیلئیے پھر بھی کوئی تیار نہ تھا۔
شاید فالج کی کسی دوا کا مضر اثر تھا کہ ابو کو آنتوں میں شدید درد کی شکایت ہو گئی، کئی اچھے ڈاکٹرز سے مشورہ کیا، کئی ٹیسٹ اور سکین بھی ہو گئے لیکن مسئلے کا حل ندارد، ابو کو اچانک شدید درد محسوس ہوتا جو انکے لئیے ناقابلِ برداشت ہوتا اور پھر کچھ وقت کے بعد خود بخود ٹھیک بھی ہو جاتا۔ ڈاکٹرز مسئلے کی نوعیت سمجھنے سے قاصر تھے اور ابو درد کو برداشت کرنے سے، ضعیف العمری اور اوپر سے فالج کے اثرات۔ ایک ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ اگر آپ چاہیں تو یہ ایک انجکیشن لگوا سکتے ہیں اس انجیکشن سے دو تین دن بالکل بھی تکلیف محسوس نہیں ہو گی لیکن اس امر میں مسئلہ یہ ہے کہ اگر آپ یہ انجکیشن لگوانے کا فیصلہ کریں تو دو یا تین بار سے زیادہ نہیں لگوا سکتے کہ یہ انجیکشن ایک سٹیرائیڈ ہے۔ مجوزہ مقدار سے زائد بار انجیکشن لگوانے کی صورت جسم کے اندر شریان پھٹنے سے خون جاری ہونے کا اندیشہ ہے جو کہ بہر صورت جان لیوا ثابت ہوتا۔
اس دن بھی صورت حال کچھ ایسی ہوئی کہ ابو نے کمرے میں یاد کیا اور فرمایا کہ انجکیشن کا بندوبست کرو مجھے تکلیف محسوس ہو رہی ہے۔ عرض کیا کہ آپ پہلے ہی تین انجکیشن لگوا چکے ہیں، ڈاکٹر نے تین سے زائد انجیکشن لگوانے سے منع کیا ہے۔ لیکن ابو کا اصرار تھا کہ مجھے انجکیشن لگوانا ہے۔۔ ابو نے ایک بار شدید سختی سے جو کہا تو مجھ پر جو کہ کئی راتوں سے جاگا ہوا تھا اور اعصاب بے آرامی سے شدید متاثر تھے پر لمحہ بھر کو انسانی کمزوری غالب آ گئی۔۔اور زندگی میں پہلی بار۔۔۔۔جی، زندگی میں پہلی بار باپ کے سامنے آواز بلند کرنے کا گناہِ کبیرہ کر بیٹھا۔ مجھے احساس بھی نہ ہو سکا کہ کب میرے منہ سے بہ آوازِ بلند نکل گیا کہ ‘آخر آپ کیوں نہیں سمجھ رہے کہ یہ انجکیشن اب نہیں لگوایا جا سکتا؟’ اور بستر پر لیٹے بوڑھے مرہض باپ کی آنکھوں سے دو موتی لڑھک گئے۔ یا خدایا یہ مجھے سے کیا سرزد ہو گیا!۔
بات اتنی سادہ نہیں تھی، ابو نے زندگی بہت مختلف گزاری تھی۔ پینتالیس سال کی سرکاری نوکری کے باوجود مرتے وقت تک آپ کا کوئی بینک اکاونٹ نہیں تھا۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ بینک اکاؤنٹ کو ہینڈل کیسے کیا جاتا ہے، کہ عمر بھر دو ہی اثاثے رہے ایک وہ تنخواہ جو ہر مہینے ملتی اور وہ ہماری والدہ کے ہاتھ دے کر فارغ البال ہو جایا کرتے کہ اب یہ امی کی ذمہ داری ہوتی کہ اگلی تنخواہ آنے تک گھر اور پانچ بچوں کے اخراجات کیسے پورے کرنے ہیں، اور دوسرا ابو کا سو سی سی یاماہا موٹر سائیکل جس کے پیٹرول کیلئیے مہینے میں وقتاً فوقتاً امی سے پیسے لے لیا کرتے۔ اسکے علاوہ ترقی کرنے کی نہ ان کی کوئی کبھی کوئی خواہش رہی اور نہ کوشش۔ آبائی زمین کی آمدن سے کچھ پس انداز کر کے امی نے اگر پانچ مرلے کا گھر لے لیا تو ابو مہینوں تعریف کر کے خوش ہوتے رہتے اور اگر وہ گھر بیچ کر دس مرلے کا لے لیا تو انہیں کبھی یہ خواہش نہیں ہوئی کہ دس مرلے سے گیارہ ہو جاتے تو بہتر ہوتا۔ وہ اپنے حال میں خوش، اور تھوڑے کو بہت جان کر ہمیشہ کم پر قانع رہے۔ پیسہ بنانے اور پیسہ جمع کرنے کی نہ ان میں صلاحیت تھی اور نہ خواہش اور وہ اپنی اس بے صلاحیتی پر بے حد مطمئن اور مسرور بھی۔
زمینوں کی زرعی آمدن آ جاتی تو رات بھر پریشان رہتے، رات بھر کروٹیں بدلتے گزر جاتی، جب گھر میں موجود وہ رقم کسی ٹھکانے لگ جاتی تو یوں مطمئن سوتے جیسے ایک معصوم بچہ سوتا ہے۔ ہم چھوٹے ہوا کرتے تو جب زمین کی آمدن وصول کرنے جایا کرتے تو جیسے ہی ابو رقم وصول کرتے ہمارے عزیز رشتہ دار جو کاشت کاری میں ہاتھ بٹاتے اپنا حصہ وصولنے آ جاتے۔ وہ اخراجات بتاتے جاتے اور ابو دائیں ہاتھ سے رقم کی گڈی سے نوٹ نکال کر انکو پکڑاتے جاتے، آپ نے کبھی حساب کتاب مانگنے کی زحمت نہیں کی کہ یہ انکا میدان تھا ہی نہیں۔ کبھی کبھار یوں ہوتا کہ ایک ڈیڑھ لاکھ کی رقم جو ان دنوں بہت زیادہ ہوا کرتی میں سے نوے فیصد دان کر کے دس پندرہ ہزار لے کر گھر آ جاتے اور اس پر بھی رات رات بھر پریشان رہتے کہ اس کا کیا کروں؟ گریڈ اٹھارہ کی سرکاری نوکری کے ایسے ششکے جن سے لطف اندوز ہونا عام بات سمجھا جاتا ہے کہ باوجود عمر بھر ایک عدد موٹرسائیکل ہی اپکا اثاثہ رہا موٹر سائیکل بھی ایسا جو سو سی سی موٹرسائیکلوں کا طرہِ امتیاز ہوا کرتا ہے یعنی ہر دس کلومیٹر کے بعد پلگ میں کچرا۔ ابو نے کبھی عین بیچ سڑک کے کنارے اتر کر پلگ سے کچرا صاف کرنا برا نہ سمجھا۔ بعض اوقات یہ بھی ہوتا کہ کسی جونئیر ملازم کا گزر ہوتا تو وہ یوں سڑک کنارے پلگ صاف کرتے دیکھ کر سر جی سر جی کہتا ہوا رک جاتا اور آ کر مدد کرتا۔ لیکن اسکے باوجود آپ کو کبھی تنگدستی کی شکایت نہ ہوئی اور نہ یہ خواہش کہ سواری بدل لی جائے بلکہ الٹا کشادہ دلی ،سخاوت اور ہمیشہ دینے والا ہاتھ آپکا وصف رہا۔
بھاری جسامت اور دراز قد کے ساتھ رعب دار آواز، جب تک باقاعدہ تعارف نہ کرایا جاتا تو اکثر حاضرینِ محفل تھانیدار سمجھ کر سہمے رہتے۔ ایک دفعہ ایک قریبی شہر میں ٹرانسفر ہو گئی، اس وقت تک گھر میں ایک چھوٹی کار آ چکی تھی لیکن روزانہ آنے جانے کیلئیے ہم میں سے بوجہ تعلیمی سلسلہ کوئی دستیاب نہیں تھا اور نہ ہی ابو کو خود ڈرائیونگ آتی تھی جبکہ سرکاری گاڑی ایشو ہونے میں چند ماہ کا پیپر ورک درکار تھا۔ فیصلہ ہوا کہ ہم بھائیوں میں سے کوئی ایک ابو کو روزانہ کوچوں کے اڈے چھوڑ کر آیا کرے گا جہاں سے آپ کوسٹر کوچ لیکر دوسرے شہر جایا کریں گے۔ پہلے دن گئے تو کنڈیکٹر نے کرایہ نہیں لیا، ابو سمجھے کہ شاید ہم میں سے کسی نے کرایہ ادا کر دیا ہوگا۔ ابو کی کنڈیکٹر اور ڈرائیور سے بھی ایسی دوستی ہو گئی کہ ایک دن ذرا دیر ہو گئی تو تمام کوچ کی سواریاں پوری ہونے کے باوجود ڈرائیور اور کنڈیکٹر ابو کا انتظار کرتے رہے۔ جیسے ہی ہم پہنچے، چاچا جی آ گئے، چاچا جی آ گئے کی آواز بلند ہوئی اور گاڑی ابو کو لے کر روانہ ہو گئی۔ یوں کئی ہفتے بعد بھی جب کنڈیکٹر نے کرایہ نہیں لیا تو ابو نے ایک دن واپس آ کر مجھے پوچھ لیا کہ تم کیوں روزانہ کرایہ ادا کر دیتے ہو؟ عرض کیا کہ میں تو نہیں دیتا۔ پتہ چلا کہ کنڈیکٹر اور ڈرائیور آپ کی شخصیت سے اتنے مرعوب تھے کہ کرایہ مانگنا بے ادبی سمجھے۔ ابو نے ایک دن خود کہہ دیا کہ میں تھانیدار نہیں ہوا آپ شاید مجھے تھانیدار سمجھ کر کرایہ نہیں لیتے؟ جواب ملا، نہیں چاچا جی ایسی کوئی بات نہیں، ہمیں معلوم ہے۔
رعب دار شخصیت کے باوجود کمال کی حسِ مزاح، شگفتہ مزاجی اور حاضر جوابی کی صلاحیت پائی تھی، آج تک آپ کو کسی محفل میں لاجواب ہوتے نہ دیکھا، کسی محفل میں چاہے کوئی کتنی ہی بڑی شخصیت کیوں نہ موجود ہوتی، آپ کو تمام تر توجہ اپنی طرف مبذول کروانے کیلئیے صرف ایک لمحہ درکار ہوتا، آپ اپنی رعب دار آواز میں صرف ایک جملہ ادا کرتے اور باقی وقت کیلئیے حاضرینِ محفل بشمول صدرِ محفل آپکے سامع ہوتے۔ آپ جہاں چند لمحوں کیلئیے رُکتے وہیں محفل جم جاتی۔ پھر حال احوال پوچھے جاتے جملے بازی ہوتی قہقہے بلند ہوتے اور چائے کا دور چلتا۔ گاؤں جاتے تو چارپائیاں بچھ جاتیں، لوگ تیز تیز قدموں چلتے پہنچ جاتے۔ گاؤں میں کسی جاننے والے کا کوئی چھوٹا موٹا مسئلہ مسائل ہو جاتا تو اپنی جیب سے مسئلہ حل کرنا اپنے اوپر فرض کر لیتے۔ کسی کے مسئلے کا ذکر کرتے تو سائل سے زیادہ آپکی آنکھیں نم رہتیں، جب تک مسئلہ مکمل طور پر حل نہ کر لیتے گھر کے لینڈ لائن فون کا ریسور آپکے کندھے اور کان کے درمیان اٹکا رہتا۔
نڈر اور دھونس کو برداشت نہ کرنا آپکا شروع سے وصف ٹھہرا تھا اور اپنے سے کئی گنا بڑے افسر کے ناجائیز احکامات ماننے سے صاف انکار کرنا آپکا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ بے شمار ایسے واقعات ہوئے جنکا زیادہ تر نتیجہ آپکا ٹرانسفر ہونے پر ہی منتج ہوتا لیکن آپ کا طرزِ عمل پھر وہی کا وہی رہتا۔ زیادہ تر مسئلہ عوامی نمائندوں کے لاکھوں روپوں کے یوٹیلیٹی بلز معاف کرنے کے متعلق ہوتا جسکی سفارشیں اوپر سے آتیں اور آپ نہ صرف بل معاف کرنے سے صاف انکار کر دیتے بلکہ الٹا ایم این اے یا ایم پی اے کی سروس بھی کاٹ دیتے۔ منطقی طور پر ایسی گستاخی کی سزا بھی فوری تجویز ہوتی اور آپ کا ٹرانسفر کر دیا جاتا۔ اکثر ٹرانسفر رکوانے میں کامیاب ہو بھی جاتے لیکن اگر کامیاب نہ ہوتے تو آپ محکمے سے تنخواہ کے بغیر چھٹی کی درخواست منظور کروا کر ٹرانسفر والی جگہ جوائن کرنے سے انکار کر دیتے کہ یہ سزا کے طور پر ٹرانسفر قبول کرنا آپکی انا اور شان کے خلاف ہوتا۔ یوں کئی کئی مہینے ہمارا گزارہ اس زرعی آمدن پر ہی ہوتا جس کے بارے رشتے داروں میں پہلے ہی کئی دعویدار ہوا کرتے۔ اس سب کے باوجود نہ کبھی آپکا مورال ڈاؤن ہوا اور نہ کبھی دینے والا ہاتھ رُکا۔ یہی وجہ رہی کہ آج بھی محکمے کی طرف سے سب سے زیادہ ریونیو ریکوری کرنے کے دو چار تعریفی سرٹیفکیٹ کسی الماری میں پڑے ہونگے۔
ابو کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی تھی، مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ میں نے کیا کیا ہے اور اب میں کیا کروں، بس اتنا یاد ہے کہ لاشعوری طور پر ابو کے کمرے سے باہر آ کر صحن کی دیوار پہ مکے مارتا رہا اور خود کو کوستا رہا، کچھ اوسان بحال ہوئے تو قدم ابو کے کمرے کی طرف دوبارہ گامزن تھے، واپس گیا تو دیکھا کہ ابو بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے، ابو کی نظروں میں ایسی شکوہ اور شکایت تھی کہ میرا کلیجہ پھٹ کر رہ گیا۔ فوری ابو کے پلنگ پر بیٹھا دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر تھامے اور چوم کر برستی آنکھوں سے عرض کیا ۔۔’آئی ایم سوری ابو جی۔۔معاف کر دیں مجھے پتہ نہیں چلا’ ۔۔
اور پھر وہی ہمیشہ کا بخشش دینے والا ہاتھ آگے بڑھا۔۔’اچھا اچھا بس۔۔ٹھیک ہو گیا’ وہی رعب والی آواز، وہی گرج۔۔سخی بادشاہ پھر اپنے تخت پر متمکن ہو گیا تھا۔
میں نے بھرائی ہوئی آواز میں پھر عرض کیا کہ ابو آپکے لئیے یہ انجیکشن لگوانا درست نہیں ہے، ابو نے فوراً اتفاق کیا، اور ساتھ ہی بات یوں بدل دی جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہ ہو۔۔’یار وہ گلو بتا رہا تھا کہ ٹریکٹر کے ٹائیر تبدیل کروانے والے ہو گئے ہیں، تم ذرا ٹائیروں کی قیمت تو پتہ کرواؤ”۔۔عرض کیا۔ ۔ جی ابو۔
ابو نے پھر کبھی انجیکشن کی ضد نہیں کی، مجھے نہیں معلوم کہ ابو کو کبھی دوبارہ درد کی شکایت ہوئی یا نہیں لیکن انہوں نے پھر کبھی ذکر نہیں کیا۔
یونہی چند مہینوں بعد امی نے کھانے کے بعد شام کی چائے کا پوچھا تو کہا ابھی نہیں، یہ کہہ کر کمبل اوڑھ لیا اور لیٹ گئے۔ امی نے کہا کہ چلیں میں عصر کی نماز پڑھ کر پھر پوچھ لیتی ہوں۔ نماز پڑھ کر امی نے آواز دی۔۔چوہدری صاحب؟
مگر چوہدری صاحب کہاں رہ گئے تھے؟ سخی بادشاہ اپنے خالقِ حقیقی اور شہنشاہِ کائنات کے حضور یوں حاضر ہو چکا تھا کہ آخری دم اُف تک نہ کی۔ یوں نیند میں سوتے چلے گئے جیسے ایک مطمئن اور معصوم بچہ ماں کی گود کی آسودگی میں سو رہا ہوتا ہے۔ ایسی موت، جس کی آج کے دن تک مجھے بھی خواہش ہے۔شاید کشادہ دل اور دینے والے ہاتھ کیلیئے کایئنات کے پالن ہار نے ایسے جانا ہی انعام کر رکھا ہے۔
ایک دن کلمہ چوک لاہور پر ٹریفک لایٹ پر گاڑی رکی، گاڑی کی کھڑکی پر دستک ہوئی تو ایک فقیر صدا لگا رہا تھا ۔۔۔اللہ کے نام پہ دے جا سخی بادشاہ۔۔آج دے جا اللہ کے نام پہ۔۔
یوں لگا جیسے کسی نے پیٹ میں گھونسا دے مارا ہو، فقیر کو بٹوا کھول کر نوٹ دیا اور بس اتنا کہہ پایا ۔ ۔ نہیں یار سخی بادشاہ تو اب نہیں رہا۔ پیچھے والی گاڑی نے ہارن دیا تو احساس ہوا آنکھوں کی نمی میں سگنل کی سبز روشنی بھی ٹھیک سے دکھائی نہ دی تھی۔ آنکھیں صاف کیں اور گاڑی آگے بڑھا دی۔

One thought on “سخی بادشاہ

Add yours

  1. پہلے تو تحریر پڑھتے ایسا لگا جیسے یہ کتاب میں لکھی گئی تحریر ہی ہے لیکن آگے جاکر تفصیل سے جاننے کا موقع ملا،
    اللہ مرحوم کےدرجات بلند فرمائے آمین

Leave a Reply to Sufyan Ahmad Cancel reply

Powered by WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: